Folder Urdu

Download Folder

 

 
 فیڈریشن آف مسلم ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس(انڈیا) 

اداروں کی داخلی خود مختاری میں مداخلت کے بغیر
ملکی سطح پر ملی تعلیمی اداروں کی شیرازہ بندی
جمہوری، دستوری اور پر امن طریقے سے ملی تعلیمی اداروں کے
حقوق کی حفاظت اور اداروں کے فروغ و ارتقاء کے لیے

اجتماعی جدو جہد

 

ملک کے اندر تعلیمی میدان میں برق رفتاری کے ساتھ جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں وہ قابلِ توجہ ہیں ۔رفتار زمانہ کے ساتھ ساتھ چلنے اور اپنے مقام اور حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے لازم ہے کہ ان روزبروزرونما ہوتی تبدیلیوں اور Developments سے واقفیت رکھی جائے اور ان کے مطابق جو کچھ مناسب تدابیر ہیں، انہیں استعمال میں لایا جائے۔
سچر کمیٹی کی رپورٹ نے جس طرح سے مسلمانو ں کی تعلیمی ،سماجی اورمعاشی بد حالی کی تصویر کشی کی ہے اور اس کے ازالہ کے لیے رنگ ناتھ مشرا کمیشن نے جو سفارشات پیش کی ہیں، اس کے سلسلہ میں حکومت بھی کچھ اقدامات کے لیے قدرے متوجہ نظر آرہی ہے ۔ اقلیتوں کے لئے مختلف تعلیمی اسکیمیں بنائی گئی ہیں، کچھ پر عمل درآمدشروع ہو گیاہے اور کچھ ابھی زیر غور ہیں۔ ان Developments اور سرکا ری ونیم سرکا ری اسکیموں سے فائدہ اٹھانا اسی وقت 
ممکن ہے جب اس کے سلسلہ میں صحیح واقفیت ہونیز اس کے حصول کے تمام مراحل اور تفصیلات کی معلومات موجود

 
ہوں۔
 
ایک اور اہم مسئلہ ملت کے بیشتر تعلیمی اداروں کے معیار تعلی
م کا ہے۔آج کے اس مسابقتی دورمیں اس قدر کم زور اور ہلکے معیار کے تعلیمی اداروں کو ساتھ لے کر کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام دینا آسان نہیں ہے، اس وقت جو لوگ علوم و فنون میں قیادت کررہے ہیں ،ان سے آگے بڑھنے کے لیے یقیناًان سے زیادہ سعی وجہد کرنی ہوگی، اسی صورت میں کسی قدرتابناک اورروشن مستقبل کی امیدیں باندھی جاسکتی ہیں۔
بیورو کریسی اور اہل اقتدار کا رویہ اقلیتوں کے حقوق کے سلسلہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ دستوری حقوق کے حصول میں باضابطہ رکاوٹوں کا سامنا ہے، اس کے سلسلہ میں سنجیدہ سعی وجہد کی ضرورت ہے۔ 
نصاب تعلیم میں قابلِ اعتراض اجزاء اور اسباق کی شمولیت بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ایک مخصوص گروہ کے افراد تعلیم کو مخصوص رنگ اور رخ پر ڈال دینا چاہتے ہیں، دینی مدارس کا وجود ان کے لیے آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھتا معلوم ہوتا ہے، مدارس کے اوپر طرح طرح کے الزامات لگاکر ان کو خوف وہراس میں مبتلا کرنے اور دفاعی پوزیشن میں لانے کی کو ششیں کی جارہی ہیں۔

 
وقت کی اہم ضرورت 
 
یہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ملت کے تعلیمی اداروں کے جملہ مسائل کے حل کے لیے اجتماعی جدوجہد کی جائے ۔ کوئی ملکی سطح کی تنظیم، ادارہ یا وفاق قائم ہو جو درج ذیل مقاصد کے حصول کے لیے مشترکہ کوشش کرے تاکہ اس کی آواز کو نظر انداز نہ کیا جا سکے، جمہوری نظام میں اپنی بات منوانے کایہ ایک موثر طریقہ ہے ۔
مسلمانون کی تعلیمی ترقی کے لیے حکومت کی سطح پر جو منصوبے طے کیے جاتے ہیں اور اقلیتی تعلیمی اداروں کے لیے جو فنڈ مختص کیے جاتے ہیں اس کی واقفیت ملک کے طول وعرض میں پھیلے مسلم تعلیمی اداروں کے منتظمین کو کم ہی ہوپاتی ہیں، جس کی وجہ سے ان سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جاتا اور دوسری جانب حکومت کے منصوبے بھی

 
تشنہ تکمیل معلوم ہوتے ہیں۔
 
تعلیمی اداروں کے انفرا اسٹرکچر کے لیے اور عمارتوں کی تعمیر کے لئے جو رقمیں مخصوص کی جاتی ہیں وہ خرچ نہیں ہو پاتیں، اسی طرح اسکالر شپ کی رقمیں بھی ناواقفیت کے سبب نادار اور مستحق طلبہ تک نہیں پہنچ پاتی ہیں۔ ماڈل اسکول کھولنے کا معاملہ ہو یا مدارس کی جدید کاری اور ان میں سائنس اور کمپیوٹر کی تعلیم کا منصوبہ ہو،بیشتر منصوبوں سے ملی تعلیمی ادارے ناواقف رہ جاتے ہیں جس کے سبب ان میں سے بیشتر منصوبوں سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایاجارہا ہے۔

 
فیڈریشن کا قیام
 
وقت کی اہم ضرورت ہے کہ تعلیمی کاز کے لیے منظم پروگرام بنایا جائے،مسلمانوں کے مکاتب ، مدارس ،ا سکول، کالجز اور پروفیسنل اور وکیشنل اداروں کا ایک تعلیمی وفاق تشکیل دیا جائے۔ فیڈریشن آف مسلم ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس کا قیام اسی ضرورت کے پیش نظر ہواہے۔ اس کو ملکی سطح کے ماہرین تعلیم ، قانون داں اور سیاسی و سماجی رہنماؤں کے علاوہ بڑے پیمانے پر بہی خواہان ملت کا تعاون اور اعتماد حاصل ہے۔ اس کو مرکزی حکومت سے رجسٹرڈ کرانے کا مرحلہ بھی الحمد للہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ تعلیمی معاملات مرکزی اور ریاستی دونوں سطح پرحکومتوں سے متعلق ہیں بلکہ بعض حالات میں ریاستی حکومتیں ہی زیادہ ہ با اثر ہیں اور اسکیموں اور پروگراموں کو روبہ عمل لانے کے لئے وہی نفاذ کی قوت استعمال کرتی ہیں ۔ اس اہمیت کے پیش نظر فیڈریشن کا مرکز ی اور ریاستی نظم درج ذیل اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے کو شش کرے گا ۔ 

 
اغراض ومقاصد
 
nتعلیمی اداروں کے جائز حقوق کے حصول کے لیے مشترکہ جدوجہداور حسب ضرورت قانونی کارروائی n تعلیمی امور میں ملت کو حاصل دستوری ضمانتوں کے تحفظ اور ان سے استفادے کی سعی وجہدnاداروں کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے میں تعاون nسرکاری یا نیم سرکاری اداروں سے حاصل ہونے والی سہولتوں کی معلومات اور حصول کے طریقوں سے باخبری اور ممکنہ تعاون nحکومتی اسکیموں سے استفادہ، قانونی رکاوٹوں کا ازالہ۔
ضروری دینی/عصری تعلیم کے لیے کوشش کرنا۔
nنصاب تعلیم کی تیاری اورسرکاری نصاب کے قابل اعتراض حصے کے اخراج کے سلسلے میں موثر کو شش، حکومتی اسکیموں اور تعلیمی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش nتعلیمی سروے کا حسب سہولت اہتمام، خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ nملکی اور عالمی سطح پر تعلیمی میدان میں ہونے والی تحقیقات اور تجربات کا جائزہ اوران سے استفادہ nتعلیمی اداروں کے دینی نصاب تعلیم اور نظام تعلیم میں ہم آہنگی پیدا کرناnملت میں تعلیمی عمل کی توسیع کے لیے ملت کے دیگر اداروں، انجمنوں اور جماعتوں سے فعال رابطہ۔ 

 
طریق کار

فیڈریشن اپنے مقاصد کے لیے پرامن، تعمیری، جمہوری اوراس
لامی تعلیمات کی روشنی میں جدوجہد کرے گا اور اپنے
کاموں میں اخلاقی آداب ملحوظ رکھے
 
 
دائرہ کار
 
اس وفاق کا دائرہ کار پورا ملک ہندوستان ہوگا، یہ وفاق تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کا وفاق ہوگا اور یہ ملت کے عصری،دینی وفنی ہر قسم کے تعلیمی اداروں سے متعلق ہوگا، ملحقہ اداروں کی انتظامیہ کی داخلی خود مختاری میں نہ کبھی دخیل ہوگا، نہ مسؤل۔ البتہ باہم طے شدہ معاملات کو وہ از روئے دستور انجام دے گا۔

ضابطہ اخلاق
 
2 ہر ممبر کو اپنی زندگی اخلاقی تعلیمات کے مطابق ڈھالنی ہوگی۔
2 اپنے فرائض محنت ، خلوص اور دیانت داری کے ساتھ انجام دے گا۔
2 اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے سلسلہ میں سنجیدہ اور وقت کا پابند رہے گا۔
2 تعلیمی اداروں میں بہتر ماحول پروان چڑھانے اور ان کو ملک وملت کے مفاد میں آگے بڑھانے کی کوشش کرے گا۔
2 فیڈریش سے کسی ذاتی مفاد کے تحت وابستگی اختیار نہیں کرے گا۔
2 ہر ناروا عصبیت اور امتیازی سلوک سے اپنے آپ کو باز رکھے گا۔
 

 
آخری بات
 
فیڈریشن آف مسلم ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس وقت کی ایک اہم ضرورت کے تحت تشکیل دیا گیا ہے، یہ ضرورت ملت کے
 
لیے بھی اہم ہے اور ملک کی تعمیروترقی کے لیے بھی۔ آئیے ایک پرامن، مثبت اور تعمیری جدوجہد کے لیے ہم سب مل
کر قدم بڑھائیں۔۔۔ 
 
آیئے
 
ایک ایسی کوشش کریں کہ جس میں:
n ہماری اجتماعیت، اتحاد، حمیت اور جوہری صلاحیت کا اظہار ہو۔
n ملت کے تعلیمی اداروں کے لیے قانونی اور دستوری رہنمائی ہو۔
n ملی تعلیمی اداروں کے جملہ مسائل کے حل کے لیے اجتماعی جدوجہدہو۔
n مسلمانون کی تعلیمی ترقی کے لیے حکومت کی سطح پر تیار کردہ اسکیموں اور منصوبوں کا تعارف ہو۔
 

FMEII
Federation of 
Muslim Educational Institiutions (India)

Headquarter: D-319. Dawat Nagar. Abul Fazl Enclave, Jamia Nagar, New Delhi-110025

Telephone: (011) 2694-1401, 2695-1409 Fax:2695-0975 e-mail: info@fmeii.org